راولپنڈی( دیس نیوز)
راولپنڈی کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال ہولی فیملی انظامیہ کی مبینہ غفلت لاپروائی اور غیرسنجیدہ فیصلوں نےہسپتال کو دیوالیہ کردیا40 کروڑ سے زائد کی مقروض انتظامیہ نے عید پر ادائگیوں کی امید لگائے وینڈرز کو بل ادا کرنے کی بجائے وینڈرز سے عطیات کی اپیل کردی وینڈرز نے ہسپتال کے اس رویے کے خلاف وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیرصحت سے مداخلت کا مطالبہ کردیازرائع کے مطابق ہسپتال انتظامیہ نے گزشتہ روز ہسپتال کے وینڈرز کو میٹنگ کے لیے طلب کیا تو وینڈرز میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور وہ امید لیکر میٹنگ میں پہنچے کے ان کےبلوں کی عید سے پہلے ادائگی ہوجائے گی مگر جب اجلاس شروع ہوا تو ہسپتال کے اے ایم ایس فنانس نے وینڈرز کو ادائیگیوں سے معزرت کرتے ہوئے کہاکہ ان کے پاس ٹوٹل 9 کروڑ کا بجٹ ہے جبکہ بلوں کی مد ابھی تک تقریباْ 37 کروڑ کے بل اکاونٹ برانچ پہنچ چکے ہیں اور مالی سال کے اختتام کو 3 ماہ پڑے ہیں ہسپتال تاریخ کے بدترین مالی بحران کا شکار ہے ہم آپ کو ادائگیاں کرنے کی پوزشین میں نہیں مگر اپ وینڈرز ہماری مدد کریں اور ہمیں ادویات کی مد میں عطیات دیں تاکہ ہم ہسپتال کی ضروریات کو پورا کرسکیں اے ایم ایس اس مایوس کن تقریر ہر وینڈرز سراپا احتجاج بن گئے انہوں نے کہا انتظامیہ تین ماہ سے ہمیں لپے لارے لگارہی تھی اور ہم آج انتہائی پرامید ہوکر میٹنگ میں آئےتھے کہ ہمیں عید سے قبل کچھ نہ کچھ ملے گا مگر انتظامیہ نے آج انتہائی یوٹرن لیتے ہوئے ہم سے ہی مانگنا شروع کردیا ہسپتال کے بعض ملازمین نے بلوں کی ادائیگی کاوعدہ کرکے دو فیصد رشوت بھی لی مگر پھر بھی ہمیں ہمارا، حق نہیں دیاگیا متعدد وینڈرز کی کل سرمایہ ڈوب چکاہے اور وہ خود مارکیٹ اور عزیز اواقارب کے مقروض ہوچکے ہیں ہسپتال انتظامیہ نے حکومتی پالسیوں کے برعکس اقدامات کرکے ہسپتال کو مالی طور پر تباہ کردیاہے بعدازں وینڈرز نے اہنے ایک اجلاس میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اور وزیر صحت خواجہ سلیمان رفیق سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہسپتال کو اس نہج تک پہنچانے والوں کے خلاف کااروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے اور اپیل کی ہے کہ ان کی ادائیگیوں کے حوالے سے فوری اقدام کیا جائے۔۔۔۔۔